ابنا: فاضل عباس نے مذاکرات کے لئے آل خلیفہ کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا بحرین سے واپس جانا ان کی شکست کے مترادف ہے۔
بحرین کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے کہا کہ اگر یہ خبر صحیح ہو کہ سعودی عرب کے فوجی بحرین سے واپس جارہے ہیں تو یہ ان فوجیوں کے خفت آمیز فرار اور شکست کا ثبوت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملت بحرین شروع ہی سے خلیج فارس تعاون کونسل کی افواج کی آمد کی مخالف تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ان فوجوں کی مداخلت سے حالات مزید بحرانی ہوجائيں گے۔
انھوں نے آل خلیفہ کی طرف سے مذاکرات کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جارح افواج کی موجودگی میں مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے۔
انھوں نے کہا آل خلیفہ کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش بیرونی دباؤ کم کرنے کا ایک مکارانہ حربہ ہے۔
دریں اثناء کہا جاتا ہے کہ آل سعود کے جلادوں کا جزوی انخلاء پیر کے روز سے شروع ہورہا ہے۔ سعودی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ بحرین سے سعودی فوجیوں کا انخلاء پیر سے شروع ہوجائےگا اور سعودی فوجیوں کا انخلاء تدریجی ہوگا اور انہیں بحرین سے ایک ہی مرحلے میں نہیں نکالا جائے گا۔
سعودی اہلکار کے مطابق بحرین میں ابھی خطرہ موجود ہے لہذا سعودی فوجیں بحرین میں رہیں گی اور وہاں سے مکمل انخلاء نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ بحرینی عوام کے پرامن مظآہروں کو کچلنے کے لئے سعودی عرب نے امریکہ کے اشاروں پر اپنے فوجی بحرین روانہ کئے تھے اور سعودی فوجیوں نے بحرین میں مسلمانوں کے خلاف یزیدی فوجیوں کی یاد تازہ کردی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز